3133 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَامَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ « الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ أَلاَ إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ الْخَطَإِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ فِيهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً فِى بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا أَلاَ إِنَّ كُلَّ مَأْثَرَةٍ فِى الْجَاهِلِيَّةِ وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَىَّ هَاتَيْنِ إِلاَّ مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ أَوْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ فَإِنِّى أَمْضَيْتُهَا لأَهْلِهَا كَمَا كَانَتْ » .
3133 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خانہ کعب (میں داخل ہوئے ) سیڑھی پر کھڑے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
'' ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے اپناوعدہ پورا کیا ہے ، اپنے بندوں کی مدد کی، اسی نے (کفار کے) لشکروں کو پسپا کیا یاد رکھنا قتل خطاء کا مقتول وہ ہے جسے لاٹھی یاعصا کے ذریعہ مارا گیا ہو اس کی دیت مغلظہ یعنی سو اونٹ ہوگی جس میں چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی زمانہ جاہلیت کی ہر ترجیحی وجہ (زمانہ جاہلیت کا ہر) خون کا بدلہ اور مال کی ادائیگی میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی میں انھیں کالعدم قرار دیتاہوں) ماسوائے ( دو چیزوں کے ) خانہ کعبہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت میں انھیں متعلقہ لوگوں کے لیے برقرار رکھتاہوں جیسے یہ پہلے (زمانہ جاہلیت میں ) تھیں۔