3197 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطِّينِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَبِى الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا فَقَالَتْ إِنِّى حُبْلَى. فَدَعَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَلِيَّهَا فَقَالَ « أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِى بِهَا ». فَفَعَلَ فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « اذْهَبِى فَأَرْضِعِيهِ ». فَفَعَلَتْ ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَ بِهَا النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّى عَلَيْهَا فَقَالَ « لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا ».
3197 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں : جہینہ قبیلہ کی ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، اس نے بتایا میں حاملہ ہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا اس کا اچھی طرح خیال رکھنا جب یہ بچے کو جنم دے تو اسے میرے پاس لے آنا، اس شخص نے ایساہی کیا جب اس عورت نے بچے کو جنم دیا وہ اس عورت کو لے کر نبی کی خدمت میں حاضرہوا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اس عورت) سے فرمایا تم جاؤ اور بچے کو دودھ پلاؤ، اس عورت نے ایساہی کیا، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے تحت اس کے جسم پر کپڑوں کو اچھی طرح باندھ دیا گیا، پھر آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کردیا گیا، آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ، تو حضرت عمر (رض) نے عرض کی یارسول اللہ آپ نے پہلے اسے سنگسار کیا پھر اس کی نماجنازہ ادا کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے اگر وہ اہل مدینہ میں ستر افراد کے درمیان تقسیم کی جائے تو ان سب کے لیے کافی ہوگی، کیا تمہیں اس سے زیادہ فضیلت والاشخص کوئی مل سکتا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کردی ؟۔