3276 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَخْبَرَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ حُنَيْنٍ وَهُوَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَأُتِىَ بِسَكْرَانَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِمَنْ عِنْدَهُ فَضَرَبُوهُ بِمَا فِى أَيْدِيهِمْ قَالَ وَحَثَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْهِ التُّرَابَ قَالَ ثُمَّ أُتِىَ أَبُو بَكْرٍ بِسَكْرَانَ قَالَ فَتَوَخَّى الَّذِى كَانَ مِنْ ضَرْبِهِمْ يَوْمَئِذٍ فَضَرَبَ أَرْبَعِينَ.قَالَ الزُّهْرِىُّ ثُمَّ أَخْبَرَنِى حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ وَبَرَةَ الْكَلْبِىِّ قَالَ أَرْسَلَنِى خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى عُمَرَ - قَالَ - فَأَتَيْتُهُ وَمَعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَعَلِىٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَهُمْ مَعَهُ مُتَّكِئُونَ فِى الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَرْسَلَنِى إِلَيْكَ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَيَقُولُ إِنَّ النَّاسَ قَدِ انْهَمَكُوا فِى الْخَمْرِ وَتَحَاقَرُوا الْعُقُوبَةَ فِيهِ فَقَالَ عُمَرُ هُمْ هَؤُلاَءِ عِنْدَكَ فَسَلْهُمْ. فَقَالَ عَلِىٌّ نُرَاهُ إِذَا سَكَرَ هَذَى وَإِذَا هَذَى افْتَرَى وَعَلَى الْمُفْتَرِى ثَمَانُونَ. فَقَالَ عُمَرُ أَبْلِغْ صَاحِبَكَ مَا قَالَ. قَالَ فَجَلَدَ خَالِدٌ ثَمَانِينَ وَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ. قَالَ وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُتِىَ بِالرَّجُلِ الضَّعِيفِ الَّذِى كَانَتْ مِنْهُ الزَّلَّةُ ضَرَبَهُ أَرْبَعِينَ قَالَ وَجَلَدَ عُثْمَانُ أَيْضًا ثَمَانِينَ وَأَرْبَعِينَ .
3276 ۔ حضرت عبدالرحمن بن ازہر (رض) بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ لوگوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید (رض) کی جائے قیام کے بارے میں دریافت کررہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے نشے میں مدہوش ایک شخص کو لایا گیا تو آپ کے حکم کے تحت آپ کے آس پاس موجود لوگوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعہ اس شخص کی پٹائی کی ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اس پر مٹی پھینکی۔
پھر حضرت ابوبکر (رض) (کے عہد خلافت میں ان کے سامنے) ایک مدہوش شخص کو لایا گیا تو انھوں نے اسے سزا دیتے ہوئے چالیس کوڑے لگوائے۔
ابن وبرہ کلبی بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید (رض) نے مجھے حضرت عمر (رض) کے پاس بھیجا وہ کہتے ہیں جب میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں پہنچا تو اس وقت ان کے پاس حضرت عثمان غنی (رض) ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ، حضرت علی ، حضرت طلحہ (رض) اور حضرت زبیر (رض) بھی موجود تھے ۔ یہ سب لوگ مسجد میں ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے میں نے کہا، حضرت خالد بن ولید (رض) نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے انھوں نے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ گزارش کی ہے : لوگ شراب زیادہ پینے لگے ہیں اور وہ اس کی سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ حضرات یہاں تمہارے سامنے تشریف فرما ہیں تم ان سے اس بارے میں دریافت کرو تو حضرت علی (رض) نے فرمایا، ہمارا یہ خیال ہے جب (شراب پینے والاشخص ) مدہوش ہوگا تو ہذیان بکے گا اور ہذیان بکے گا تو افتراء (زناکا جھوٹا الزام) لگائے گا اور افتراء کی سزا اسی کوڑے ہے تو حضڑت عمر (رض) نے فرمایا انھوں (حضرت علی (رض)) نے جو کہا ہے وہ اپنے صاحب (حضرت خالد بن ولید (رض)) تک پہنچا دینا۔
راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر (رض) کے سامنے کسی کمزور شخص کو لایاجاتا جس نے یہ جرم کیا ہوتا تو وہ اسے چالیس کوڑے لگواتے تھے۔ حضرت عثمان غنی (رض) بھی (کسی کو) اسی اور (کسی کو) چالیس کوڑے لگواتے تھے۔