3308 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا حَجَّ عُمَرُ حَجَّتَهُ الأَخِيرَةَ الَّتِى لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا غُودِرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَتِيلاً فِى بَنِى وَادِعَةَ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا قَضَى النُّسُكَ وَقَالَ لَهُمْ هَلْ عَلِمْتُمْ لِهَذَا الْقَتِيلِ قَاتِلاً مِنْكُمْ قَالَ الْقَوْمُ لاَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ شَيْخًا فَأَدْخَلَهُمُ الْحَطِيمَ فَاسْتَحْلَفَهُمْ بِاللَّهِ رَبِّ هَذَا الْبَيْتِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الْبَلَدِ الْحَرَامِ وَرَبِّ هَذَا الشَّهْرِ الْحَرَامِ أَنَّكُمْ لَمْ تَقْتُلُوهُ وَلاَ عَلِمْتُمْ لَهُ قَاتِلاً فَحَلَفُوا بِذَلِكَ فَلَمَّا حَلَفُوا قَالَ أَدُّوا دِيَتَهُ مُغَلَّظَةً فِى أَسْنَانِ الإِبِلِ أَوْ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ دِيَةً وَثُلُثًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ سِنَانٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَجْزِينِى يَمِينِى مِنْ مَالِى قَالَ لاَ إِنَّمَا قَضَيْتُ عَلَيْكُمْ بِقَضَاءِ نَبِيِّكُمْ -صلى الله عليه وسلم-. فَأَخَذُوا دِيَتَهُ دَنَانِيرَ دِيَةً وَثُلُثَ دِيَةٍ. عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ .
3308 ۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر (رض) نے آخری مرتبہ حج کیا جس کے بعد انھیں حج کرنے کا موقع نہیں ملا، تو اس حج کے دوران بنووداعہ کے رہائشی علاقے میں ایک مسلمان شخص مقتول پایا گیا، حضرت عمر (رض) نے ان کی طرف پیغام بھیجا یہ حج ادا کرلینے کے بعد ہوا ، حضرت عمر (رض) نے ان سے دریافت کیا کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تمہارے درمیان میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا نہیں ، حضرت عمر (رض) نے ان میں سے پچاس ہزار افراد کو لیا، اور انہیں، حطیم، میں کھڑا کردیا، اور ان سے یہ قسم لی : (کہ وہ یہ قسم اٹھائیں) اللہ کے نام کی قسم ، جو اس حرمت والے گھر کا پروردگار ہے ، اس حرمت والے شہر کا پروردگار ہے اس حرمت والے مہینے کا پروردگار ہے تم لوگوں نے اسے قتل نہیں کیا، اور تمہیں اس کے قاتل کے بارے میں بھی علم نہیں ہے ، ان لوگوں نے یہ قسم اٹھائی ، جب ان لوگوں نے یہ قسم اٹھالی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم یا تو اونٹوں کے حساب سے اس شخص کی دیت مغلظہ ادا کردیا، درہم دینار کے حساب سے ایک مکمل دیت اور ایک تہائی دیت (کی رقم) ادا کرو، تو ان میں سے ایک شخص جس کا نام سنان تھا، اس نے حضرت عمر (رض) سے دریافت کیا، جب ہم نے قسم اٹھالی ہے تو کیا یہ اس ادائیگی کی جگہ کافی نہیں ہے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا نہیں میں نے تمہارے بارے میں تمہارے نبی کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا ہے تو ان لوگوں نے دیناروں کے حساب سے ایک مکمل دیت ادا کی اور ایک تہائی دیت (کی رقم) ادا کرنے کو اختیار کیا۔
اس روایت کا راوی عمر بن صبح متروک الحدیث ہے۔