3354 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلاً أَقْطَعَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ نَزَلَ عَلَى أَبِى بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَكَانَ يُصَلِّى مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ مَنْ قَطَعَكَ قَالَ يَعْلَى بْنُ مُنْيَةَ ظَالِمًا. قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ لأَكْتُبَنَّ إِلَيْهِ. وَتَوَعَّدَهُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ فَقَدُوا حُلِيًّا لأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ - قَالَ - فَجَعَلَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَىَّ صَاحِبَهُ قَالَ فَوُجِدَ عِنْدَ صَائِغٍ فَأُلْجِئَ حَتَّى أُلْجِئَ إِلَى الأَقْطَعِ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَاللَّهِ لَغِرَّتُهُ بِاللَّهِ كَانَ أَشَدَّ عَلَىَّ مِمَّا صَنَعَ اقْطَعُوا رِجْلَهُ فَقَالَ عُمَرُ بَلْ نَقْطَعُ يَدَهُ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ دُونَكَ.
3354 ۔ نافع بیان کرتے ہیں : ایک شخص جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں (چوری کی سزا میں) کٹا ہوا تھا، وہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا مہمان بنا، وہ رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتا تھا، حضرت ابوبکر (رض) نے اس سے فرمایا تم کسی چور کی طرح رات نہیں گزارتے (تم تو نیک آدمی ہو) تمہارا ہاتھ کس نے کٹوادیا ؟ اس نے جواب دیا ، یعلی بن منیہ نے ظلم کے طور پر اس کو کاٹا ہے تو حضرت ابوبکر (رض) نے اس سے فرمایا میں اسے اس بارے میں خط لکھوں گا ، حضرت ابوبکر (رض) نے اس سے وعدہ کرلیا، اسی دوران (حضرت ابوبکر (رض) کی اہلیہ) سیدہ اسماء بنت عمیس کا ایک ہار گم ہوگیا تو اس شخص نے یہ کہنا شروع کردیا : یا اللہ اس چور کو پکڑوادے۔ راوی بیان کرتے ہیں ، وہ ہار ایک سنار کے پاس سے مل گیا، جب اس کی تحقیق کی توپتا چلا کہ اسی ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے شخص نے اسے فروخت کیا تھا۔
راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم میرے نزدیک اس کی اس حرکت سے زیادہ شدید (ناپسندیدہ) بات یہ ہے کہ وہ اللہ سے یہ دعائیں کررہا تھا (کہ چور پکڑا جائے) تم لوگ اس کا پاؤں کاٹ دو (تاکہ وہ ہاتھ کے ساتھ کسی کام کے قابل نہ رہے) تو حضرت عمر (رض) نے کہا : ہم اس کا ہاتھ کاٹیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ، تو حضرت ابوبکر نے فرمایا ٹھیک ہے۔