3386 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ أَيْمَنَ يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَكَانَ عَطَاءٌ وَمُجَاهِدٌ قَدْ رَوَيَا عَنْ أَبِيهِ.- كَتَبَ إِلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّىُّ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْوَاسِطِىُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ تُوجَدُ فِى الأَرْضِ الْمَسْكُونَةِ وَالسَّبِيلِ الْمِيتَاءِ فَقَالَ « عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَهِىَ لَكَ ». وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ تُوجَدُ فِى أَرْضِ الْعَدُوِّ فَقَالَ « فِيهَا وَفِى الرِّكَازِ الْخُمُسُ ».
قَالَ وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ « خُذْهَا فَإِنَّمَا هِىَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ». قَالَ وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ فَقَالَ « دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ ».
قَالَ وَسُئِلَ عَنْ حَرِيسَةِ الْجَبَلِ قَالَ « يُضْرَبُ ضَرَبَاتٍ وَيُضَعَّفُ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ». وَقَالَ « إِذَا كَانَ مِنَ الْمَرَاحِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ - وَهُوَ الدِّينَارُ - فَفِيهِ الْقَطْعُ وَإِنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ ضُرِبَ ضَرَبَاتٍ وَأُضْعِفَ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ». وَسُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ فِى أَكْمَامِهَا قَالَ « يُضْرَبُ ضَرَبَاتٍ وَيُضَعَّفُ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ». قَالَ « وَإِنْ كَانَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ - وَهُوَ دِينَارٌ - فَفِيهِ الْقَطْعُ وَإِذَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ ضُرِبَ ضَرَبَاتٍ وَضُعِّفَ عَلَيْهِ الْغُرْمُ ».
3386 ۔ عبدالواحد بن ایمن اپنے والد کے حوالے سے اسے ذکر کیا ہے۔ عطاء اور مجاہد دونوں نے ان کے والد کے حوالے سے احادیث روایت کی ہیں۔:
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کسی رہائشی جگہ یا عام گزرگاہ سے ملتی ہے تو آپ نے فرمایا تم ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ تمہاری ہوگی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا جو دشمن کی سرزمین سے ملتی ہے تو آپ نے فرمایا اس میں اور رکاز میں سے پانچویں حصے کی (بیت المال) کو ادائیگی لازم ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : تم اسے پکڑو کیونکہ وہ یا تو تمہیں ملیں گی یا تمہارے کسی بھائی کو مل جائے گی یاپھربھیڑیے کو ملے گی۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑ دو، اس کے پاؤں اور اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہیں وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درخٹ (کے پتے) کھالے گا۔
(روای کہتے ہیں ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہاڑ سے چوری کرنے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس کی اچھی طرح پٹائی کی جائے اور اس سے دگناتاوان لیا جائے۔ اگر مویشیوں کی حفاظت کی جگہ سے جانور چرایا گیا ہے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت جتنی یعنی ایک دینار ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، آپ سے شگوفے میں سے پھل چوری کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اسی چور کی پٹائی کی جائے گی اور اس سے دگناتاوان وصول کیا جائے گا، آپ نے فرمایا : اگر کھجوریں خشک کرنے کی جگہ سے چوری کی جائے ، اور چوری شدہ سامان کی قیمت ڈھال جتنی ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر اس سے کم ہو تو (چور کی) پٹائی کی جائے گی اور اس سے دگناتاوان وصول کیا جائے گا۔