3397 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ دُحَيْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ وَكَانَ النَّضِيرُ أَشْرَفَ مِنْ قُرَيْظَةَ فَكَانَ إِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلاً مِنْ قُرَيْظَةَ أَدَّى مِائَةَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ وَإِذَا قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْظَةَ رَجُلاً مِنَ النَّضِيرِ قُتِلَ فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ النَّضِيرِ رَجُلاً مِنْ قُرَيْظَةَ فَقَالُوا ادْفَعُوهُ إِلَيْنَا نَقْتُلْهُ . قَالُوا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَتَوْهُ فَنَزَلَتْ (وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ) (النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ) (أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ)
3397 ۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : (مدینہ منورہ میں) بنوقریضہ اور بنونظیر دوقبیلے تھے بنونضیر، بنوقریطہ سے زیادہ معزز سمجھتے جاتے تھے جب بنونضیر کا کوئی شخص بنوقریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو وہ کھجور کے ایک سووسق دیت کے طور پر اد ا کرتے تھے جب بنوقریظہ کا کوئی شخص بنونضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تو دیت وصول نہ کی جاتی بلکہ قصاص لیاجاتا جب نبی کریم کو مبعوث کیا گیا یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو بنونضیر کے ایک شخص نے بنوقریظہ کے ایک شخص کو قتل کردیا، بنوقریظہ نے کہا اسے ہمارے حوالے کردو، تاکہ ہم اسے بھی (قصاص کے طور پر) قتل کردیں، تو انھوں نے کہا نبی کریم ہمارے اور تمہارے درمیان ہیں فیصلہ کریں گے۔ وہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
'' جب تم نے فیصلہ کرنا ہوتوانصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ جان کا بدلہ جان ہے ''۔ کیا وہ لوگ زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔