3414 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَبُو سَهْلٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ الْوَازِعِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ أَبِى الْمُهَاجِرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرَةَ مِنْ بَنِى قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ يَسْبِقُ النَّاسَ كُلَّ سَنَةٍ فَلَمَّا قَدِمَ وَجَدَ مَعَ وَلِيدَتِهِ سَبْعَةَ رِجَالٍ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَلْقَوْهُ فِى بِئْرٍ فَجَاءَ الَّذِى مِنْ بَعْدِهِ فَسُئِلَ عَنْهُ فَأَخْبَرَ أَنَّهُ مَضَى بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ إِلَى الْخَلاَءِ فَرَأَى ذُبَابًا يَلِجُ فِى خَرْقِ الرَّحَى ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْهُ فَعَرَفَ أَنَّ فِيهَا لَحْمًا فَرَفَعَ الرَّحَى وَأَرْسَلَ إِلَى سُرِّيَّةِ الرَّجُلِ فَأَخْبَرَتْهُ بِالْقَوْمِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ أَجْمَعِينَ وَاقْتُلْهَا مَعَهُمْ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَهْلُ صَنْعَاءَ اشْتَرَكُوا فِى دَمِهِ قَتَلْتُهُمْ.
3414 ۔ عبیداللہ بن عمیرہ بیان کرتے ہیں :، صنعا، کا رہنے والاایک شخص تھا جو ہر سال لوگوں سے پہلے (گھرواپس) آیا کرتا تھا، ایک دن وہ اپنے گھر واپس آیا تو اس نے اپنی کنیز (یا بیوی) کے ساتھ سات آدمیوں کو شراب پیتے ہوئے پایا، ان ساتوں نے اسے پکڑ کر قتل کرکے ایک کنوئیں میں پھینک دیا، جب اس کے بعد والاشخص آیا اور اس نے پہلے والے شخص کے بارے میں دریافت کیا تو ان لوگوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی جاچکا ہے پھر وہ (بعد میں آنے والا) شخص قضائے حاجت کے لیے گیا تو اس نے دیکھا کنوئیں کی چکی میں سے کچھ مکھیاں آجارہی ہیں جس سے اسے اندازہ ہوا کہ اس میں گوشت موجود ہے ، اس نے اس چکی کو اٹھایا اور (مقتول) شخص کے خاندان والوں کو بلوایا، انھیں اس بارے میں بتایا۔ حضرت عمر (رض) نے اسے خط لکھا ان سب افراد کی گردنیں اڑادو اور ان کے ساتھ اس عورت کو بھی قتل کردو، اگر، صنعا، کے رہنے والے سب لوگ اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں ن سب کو قتل کروا دیتا۔