3416 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِىُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ نَائِمًا فِى الْمَسْجِدِ ثِيَابُهُ تَحْتَ رَأْسِهِ فَجَاءَ سَارِقٌ فَأَخَذَهَا فَأُتِىَ بِهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَقَرَّ السَّارِقُ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُقْطَعَ فَقَالَ صَفْوَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُقْطَعُ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ فِى ثَوْبِى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَفَلاَ كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَجِىءَ بِهِ ». ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اشْفَعُوا مَا لَمْ يَصِلْ إِلَى الْوَالِى فَإِذَا وَصَلَ إِلَى الْوَالِى فَعَفَا فَلاَ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ » ثُمَّ أَمَرَ بِقَطْعِهِ مِنَ الْمِفْصَلِ.
3416 ۔ عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت صفوان بن امیہ (رض) مسجد میں سوئے ہوئے تھے ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی ایک چور آیا اس نے وہ چادر ننکال لی پھر اس چور کو نبی کریم کی خدمت میں لایا گیا اس نے جرم کا اقرار کیا، تو نبی کریم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا حضرت صفوان نے عرض کی یارسول اللہ کیا میرے کپڑے کی وجہ سے ایک عربی کا ہاتھ کاٹا جائے گا ؟ نبی کریم نے فرمایا یہ تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں سوچا ؟ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس وقت تک مجرم کو معاف کرنے کی سفارش کرو جب تک معاملہ حاکم یاقاضی تک نہیں پہنچتا جب وہ حاکم تک پہنچ جائے اور حاکم اسے معاف کردے تو اللہ اس حاکم کو معاف نہیں کرے گا، پھر نبی کریم نے اس کا ہاتھ جوڑ کے پاس سے کاٹنے کا حکم دیا۔