3421 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ أَبَقَ غُلاَمٌ لاِبْنِ عُمَرَ فَمَرَّ عَلَى غِلْمَةٍ لِعَائِشَةَ فَسَرَقَ مِنْهُمْ جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ وَرَكِبَ حِمَارًا لَهُمْ فَأُتِىَ بِهِ ابْنُ عُمَرَ فَبَعَثَ بِهِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ سَعِيدٌ لاَ نَقْطَعُ آبِقًا وَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ عَائِشَةُ إِنَّمَا غِلْمَتِى غِلْمَتُكَ وَإِنَّمَا جَاعَ وَرَكِبَ الْحِمَارَ يَتَبَلَّغُ عَلَيْهِ فَلاَ تَقْطَعْهُ فَقَطَعَهُ ابْنُ عُمَرَ .
3421 ۔ نافع بیان کرتے ہیں : حضرت ابن عمر (رض) کا ایک غلام بھاگ گیا، اس کا گزر سیدہ عائشہ (رض) کے کچھ غلاموں کے پاس ہوا، اس نے ان غلاموں کی ایک تھیلی چرالی، جس میں کھجوریں موجود تھیں، پھر وہ ان غلاموں کے گدھے پر سوار ہوا اور بھاگ گیا، پھرا سے پکڑ کر حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس لایا گیا تو حضرت عبداللہ بن عمر نے اسے سعید بن العاص کے پاس بھیج دیا، جوان دنوں مدینہ منورہ کے گورنر تھے ، سعید نے کہا : میں مفرور غلام کا ہاتھ نہیں کاٹوں گا۔ پھر سیدہ عائشہ (رض) نے (ابن عمر (رض)) کو پیغام بھیجا میرے غلام بھی آپ کے غلام ہیں وہ غلام بھوکا تھا (اس لیے اس نے کھجوروں کی تھیلی چوری کرلی) وہ گدھے پر اس لیے سوا رہوا تاکہ وہاں سے فرار ہوجائے اس لیے آپ اس کا ہاتھ نہ کاٹیں لیکن حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اس کا ہاتھ کٹوادیا۔