hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3458

.

سنن الدارقطني

3458
Sunan Al Daraqutni
3459 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى فَرْوَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ الْبَدَلُ فِى الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ تَنْزِلُ لِى عَنِ امْرَأَتِكَ وَأَنْزِلُ لَكَ عَنِ امْرَأَتِى وَأَزِيدُكَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى (وَلاَ أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ ) قَالَ فَدَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِىُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَعِنْدَهُ عَائِشَةُ فَدَخَلَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا عُيَيْنَةُ فَأَيْنَ الاِسْتِئْذَانُ ». فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا اسْتَأْذَنْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ مُضَرَ مُنْذُ أَدْرَكْتُ قَالَ مَنْ هَذِهِ الْحُمَيْرَاءُ الَّتِى إِلَى جَنْبِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَذِهِ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ ». قَالَ أَفَلاَ أَنْزِلُ لَكَ عَنْ أَحْسَنِ الْخَلْقِ قَالَ « يَا عُيَيْنَةُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ ». قَالَ فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَذَا قَالَ « هَذَا أَحْمَقُ مُطَاعٌ وَإِنَّهُ عَلَى مَا تَرَيْنَ لَسَيِّدُ قَوْمِهِ ».
3459 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں بدل یہ ہوتا تھا کہ کوئی شخص دوسرے سے کہتا، تم مجھے اپنی بیوی کے س اتھ صحبت کرنے دو میں تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے دیتاہوں میں تمہیں مزید (فائدہ ) دوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : (ولاان تبدل بھن من ازواج ولواعجبک حسنھن) ۔
راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عیینہ بن حصن فزاری (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت سیدہ عائشہ (رض) کے ہاں موجود تھے ، عیینہ اجازت لیے بغیر اندر آگئے تو نبی کریم نے ان سے فرمایا : اے عیینہ ، تم نے اجازت کیوں نہیں لی ؟ انھوں نے عرض کی یارسول اللہ جب سے میں بالغ ہوا میں نے مضر قبیلہ کے کسی فرد کے ہاں اندر داخل ہونے کی اجازت طلب نہیں کی، اس نے یہ بھی کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں موجود یہ خوبصورت خاتون کون ہے ؟ نبی کریم نے فرمایا یہ عائشہ ہے ، جو تمام اہل ایمان کی ماں ہے، اس نے کہا : کیا میں اس کی جگہ تبدیل کرکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ خوبصورت عورت نہ دوں ؟ نبی کریم نے فرمایا اے عیینہ ! اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو حرام قرار دیا ہے ۔
راوی کہتے ہیں) جب وہ شخص چلا گیا تو سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے دریافت کیا یارسول اللہ ، یہ کون تھا ؟ نبی کریم نے فرمایا یہ ایک احمق رہنما تھا، تم نے اس کی (جوذہنی حالت) دیکھی ہے اس کے باوجود یہ اپنی قوم کا سردار ہے۔