3466 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِىُّ مَنْ لاَ وَلِىَّ لَهُ ».
3466 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں جو عورت ولی کے بغیر اجازت نکاح کرلے اس کا نکاح باطل ہوگا، اس کا نکاح باطل ہوگا، اس کا نکاح باطل ہوگا، اگر مرد اس کے ساتھ صحبت کرلے تو مرد کے اس عمل کی وجہ سے اس عورت کو مہر ملے گا، اگر ان کے درمیان آپس میں اختلاف ہوجائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو، حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔