356 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ أَنَّهُ وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ مَأْقَيْهِ بِالْمَاءِ. قَالَ أَبُو أُمَامَةَ الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ.قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ أَبِى أُمَامَةَ فَمَنْ قَالَ غَيْرَ هَذَا فَقَدْ بَدَّلَ أَوْ كَلِمَةً قَالَهَا سُلَيْمَانُ أَىْ أَخْطَأَ. خَالَفَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ رَوَاهُ عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ غَسَلَ مَاقَيْهِ بِإِصْبُعَيْهِ وَلَمْ يَذْكُرِ الأُذُنَيْنِ. حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ سَأَلْتُ مُوسَى بْنَ هَارُونَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ لَيْسَ بِشَىْءٍ فِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَشَهْرٌ ضَعِيفٌ وَالْحَدِيثُ فِى رَفْعِهِ شَكٌّ. وَقَالَ ابْنُ أَبِى حَاتِمٍ قَالَ أَبِى سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ أَبُو رَبِيعَةَ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ.
شہر بن حوشب نامی راوی نے حضرت ابوامامہ (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : حضرت ابوامامہ (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ بیان کیا تو یہ بات بیان کی : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب وضو کرتے تھے تو پانی کے ذریعے اپنی آنکھوں کے کناروں کا مسح کیا کرتے تھے۔ حضرت ابومامہ (رض) نے یہ بات بھی بیان کی ہے : دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ سلیمان بن حرب نے یہ بات بیان کی ہے : دونوں کان سر کا حصہ ہیں۔ یہ بات حضرت ابو امامہ (رض) کا قول ہے، جو شخص اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتا ہے (یعنی اس کو حدیث قرار دیتا ہے) تو اس نے تبدیلی کی۔ یہاں پر سلیمان نامی راوی نے کوئی اور بات کہی تھی، جس کا مطلب یہی تھا : اس نے غلطی کی ہے۔
بعض دیگر راویوں نے اس سے مختلف بات نقل کی ہے، انھوں نے حضرت انس (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب وضو کرتے تھے تو آپ اپنی انگلیوں کے ذریعے دونوں آنکھوں کے گوشوں کو دھویا کرتے تھے۔ تاہم انھوں نے اس روایت میں دونوں کانوں کا تذکرہ نہیں کیا۔
دعلج بن احمد بیان کرتے ہیں : میں نے موسیٰ بن ہارون سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور شہر نامی راوی ضعیف ہے اور اس حدیث کے ” مرفوع “ ہونے کے بارے میں شک پایا جاتا ہے۔ ابن ابو حاتم نے یہ بات بیان کی ہے : میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے : ابوربیعہ سنان بن ربیعہ نامی راوی حدیث نقل کرنے میں اضطراب کا شکار ہوجاتا ہے۔