3611 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رضى الله عنها عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى (وَإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِى الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ) قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِى هِىَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِى حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِى مَالِهِ وَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِى صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِى غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلاَّ أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِى الآيَةِ الأُخْرَى (وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ) رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِى تَكُونُ فِى حَجْرِهِ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِى مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلاَّ بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ .
3611 ۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : انھوں نے سیدہ عائشہ (رض) سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا : اور اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو تمہیں جو خواتین پسند ہیں دویاتین یا چار، ان کے ساتھ چادی کرلو۔ ''
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ، اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی زیر پرورش ہوتی تھی وہ لڑکی اس کے مال میں اس کی شریک ہوتی تھی، تو اس شخص کو اس لڑکی کے مال اور خوبصورتی میں دل چسپی ہوتی تو ولی اس لڑکی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا، تاکہ اسے مہر کے طور پر انصاف کے مطابق ادائیگی نہ کرنا پڑے۔ وہ (انصاف کے مطابق یعنی عام رواج سے کم) مہر ادا کرتا۔ تو لوگوں کو اس بات سے منع کردیا گیا کہ وہ اس طرح ان لڑکیوں کے ساتھ شادی کریں یاپھریہ ہے کہ وہ انصاف سے (یعنی عام رواج کے مطابق) انھیں مہراد اکریں ان لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ دوسری خواتین کے ساتھ شادی کرلیں۔
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا : دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :
'' اور تم ان کے ساتھ شادی کرنے میں دل چسپی نہیں لیتے '
یعنی کوئی شخص ایسی یتیم لڑکی کے ساتھ شادی کرنے میں دل چسپی نہیں لیتا جو اس کے زیر پرورش ہوتی ہے جس کا مال اور خوبصورتی کم ہوتے ہیں تو لوگوں کو ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنے سے منع کردیا گیا جن کے مال اور خوبصورتی میں لوگوں کو دل چسپی ہوتی ہے (کیونکہ دوسری صورت میں) ان کی دل چسپی ختم ہوجاتی ہے ، البتہ اگر وہ انصاف کے مطابق انھیں مہرادا کریں تو (حکم مختلف ہوگا) ۔