hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3655

.

سنن الدارقطني

3655
Sunan Al Daraqutni
3656 - حَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الدُّورِىُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِشَرِيكِ ابْنِ السَّحْمَاءِ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِى ظَهْرِكَ ». فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا الرَّجُلَ عَلَى امْرَأَتِهِ يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ. قَالَ فَجَعَلَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « الْبَيِّنَةُ وَإِلاَّ فَحَدٌّ فِى ظَهْرِكَ ». قَالَ فَقَالَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَالَّذِى بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّى لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِى أَمْرِى مَا يُبَرِّئُ بِهِ ظَهْرِى مِنَ الْحَدِّ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - قَالَ - فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ) حَتَّى بَلَغَ (وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ) قَالَ فَانْصَرَفَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا قَالَ فَجَاءَ فَقَامَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا مِنْ تَائِبٍ ». فَقَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « وَقِّفُوهَا فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ ». قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ ثُمَّ قَالَتْ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِى سَائِرَ الْيَوْمِ. قَالَ فَمَضَتْ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ وَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ ». قَالَ هِشَامٌ أَحْسَبُهُ قَالَ مِثْلَ قَوْلِ مُحَمَّدٍ « وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الإِلْيَتَيْنِ مُدَمْلَجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ ». فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لَوْلاَ مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِى وَلَهَا شَأْنٌ ».
3656، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : ہلال بن امیہ نے نبی کریم کے سامنے اپنی بیوی پر یہ الزام لگایا کہ اس کے شریک بن سحماء کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں ، تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا تم ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد جاری ہوگی، ہلال نے عرض کی یارسول اللہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھتا ہے تو کیا وہ ثبوت گواہ تلاش کرنے چل پڑے، گا ؟ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہی فرماتے رہے تم ثبوت پیش کرو ورنہ تم پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد جاری ہوگی۔
راوی بیان کرتے ہیں : ہلال بن امیہ نے عرض کی اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں سچ کہہ رہاہوں اور اللہ میرے بارے میں کوئی ایساحکم ضرور نازل کریں گے جس کی وجہ سے مجھ پر حد جاری نہیں ہوگی۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نازل ہوئے اور نبی کریم پر یہ آیت نازل ہوئی۔
'' وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام لگا دیتے ہیں : یہ آیت یہاں تک ہے۔ پانچویں مرتبہ وہ کہے گی : اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا گروہ مرد سچاہو۔ ''
راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی کریم نے ان دونوں کو بلوایا، راوی بیان کرتے ہیں : ہلال بن امیہ آئے انھوں نے کھڑے ہو کر گواہی دی ، تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرے گا، ؟ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے بھی گواہی دے دی ، جب وہ پانچواں جملہ استعمال کرنے لگی تو نبی کریم نے فرمایا اسے رکوادو، کیونکہ یہ (پانچویں گواہی اس کے لیے آخرت میں عذاب کو) لازم کردے گی۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : وہ عورت ہچکچائی اس نے اپنا سرجھکایا یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ اب وہ رجوع کرلے گی لیکن پھر اس نے کہا : میں اپنے قبیلے کو کبھی رسوا نہیں کروں گی۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر اس نے (گواہی کو) پورا کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروادی۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس عورت کا دھیان رکھنا اگر یہ ایسے بچے کو جنم دے ۔۔ ہشام نامی راوی بیان کرتے ہیں میرا خیال ہے میرے استاد نے یہاں محمد نامی راوی کی مانند لفظ نقل کیے ہیں۔ اور اگر اس عورت نے سرمگئی آنکھوں بھاری سرین اور مضبوط پنڈلی والے بچے کو جنم دیا تو وہ شریک بن سحماء کی اولاد ہوگا، تو اس عورت نے ایسے ہی بچے کو جنم دیا۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر اس بارے میں اللہ کی کتاب کا حکم پہلے نہ آچکا ہوتا تو میرا اس عورت کے ساتھ سلوک مختلف ہوتا۔