hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 3739

.

سنن الدارقطني

3739
Sunan Al Daraqutni
3740 - حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِى بِاللَّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِىُّ بِالرَّمْلَةِ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ أَبِى السَّرِىِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِىُّ عَنِ الْكُمَيْتِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنِى مَذْكُورٌ مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ خَطَبَنِى عِدَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَرْسَلْتُ أُخْتِى حَمْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَسْتَشِيرُهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيْنَ هِىَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا » قَالَتْ وَمَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ».فَغَضِبَتْ حَمْنَةُ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُزَوِّجُ ابْنَةَ عَمِّكَ مَوْلاَكَ قَالَتْ وَجَاءَتْنِى فَأَخْبَرَتْنِى فَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِهَا وَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ( وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ) فَأَرْسَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- زَوِّجْنِى مَنْ شِئْتَ فَزَوَّجَنِى زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فَأَخَذْتُهُ بِلِسَانِى فَشَكَانِى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ ». وَذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ .
3740 ۔ سیدہ زینب بنت جحش (رض) بیان کرتی ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے مجھے نکاح پیغام بھیجا تو میں نے اپنی بہن حمنہ بنت جحش (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں مشورہ لوں، تو نبی کریم نے اس سے فرمایا : وہ اس شخص کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتی، جس نے اسے اس کے پروردگار کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی تعلیم دی ہے ، حمنہ نے دریافت کیا یارسول اللہ ! وہ کون شخص ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زید بن حارثہ، تو حمنہ کو غصہ آگیا، اس نے عرض کی : یارسول اللہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے چچازاد کی شادی اپنے (آزاد شدہ، سابقہ) غلام کے ساتھ کریں گے ؟
سیدہ زینب (رض) بیان کرتی ہیں : حمنہ میرے پاس آئی اور مجھے اس بارے میں بتایا تو مجھے اس سے زیادہ غصہ آیا اور میں نے اس سے زیادہ سخت الفاظ استعمال کیے تو اللہ نے یہ آیت نازل کی :'' کسی بھی مومن مرد یا عورت کو (اس بارے میں اختیار نہیں ہے) کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ دیں تو انھیں اپنے اس معاملے میں (اس فیصلے سے مختلف کام کرنے) کا اختیار ہو۔
سیدہ زینب (رض) بیان کرتی ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیغام بھیجا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس کے ساتھ چاہیں میری شادی کروادیں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید بن حارثہ (رض) کے ساتھ میری شادی کروادی میں نے ان کے ساتھ تیز مزاجی کا مظاہرہ کیا تو انھوں نے میری شکایت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھو (یعنی اسے طلاق دینے کانہ سوچو) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
اس کے بعد انھوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے۔