3870 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ بَكَّارٍ السَّعْدِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَبَا سُفْيَانَ عَلَى نَجْرَانَ الْيَمَنِ عَلَى صَلاَتِهَا وَحَرْبِهَا وَصَدَقَاتِهَا وَبَعَثَ مَعَهُ رَاشِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ إِذَا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « رَاشِدٌ خَيْرٌ مِنْ سُلَيْمٍ وَأَبُو سُفْيَانَ خَيْرٌ مِنْ عُرَيْنَةَ ». قَالَ وَكَانَ فِيمَا عَهِدَ إِلَى أَبِى سُفْيَانَ أَوْصَاهُ بِتَقْوَى اللَّهِ وَقَالَ « لاَ يُطَلِّقُ رَجُلٌ مَا لَمْ يَنْكِحْ وَلاَ يَعْتِقُ مَا لاَ يَمْلِكُ وَلاَ نَذْرَ فِى مَعْصِيَةِ اللَّهِ ».
3870 ۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوسفیان کو یمن کے شہر نجران بھیجا تاکہ وہ وہاں نماز پڑھائیں جنگ کریں صدقات وصول کریں، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ راشد بن عبداللہ کو بھی بھیجا۔ نبی کریم جب ان کا ذکر کرتے تھے یہ فرماتے تھے ، راشد، پورے سلیم قبیلہ سے بہتر ہے اور ابوسفیان پورے عرینہ قبیلے سے بہتر ہے ۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوسفیان کو جو تلقین کی تھی اس میں انھیں اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی تلقین کی اور یہ ہدایت کی کوئی شخص اسے طلاق نہیں دے سکتا جس کے ساتھ اس کا نکاح نہ ہوا ہو، اور کوئی شخص اسے آزاد نہیں کرسکتا جس کا وہ مالک نہ ہو اور اللہ کی نافرمانی کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔