388 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا الْمُتَوَكِّلُ بْنُ فُضَيْلٍ أَبُو أَيُّوبَ الْحَدَّادُ بَصْرِىٌّ عَنْ أَبِى ظِلاَلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلاَةَ الصُّبْحِ وَقَدِ اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ فَكَانَ نُكْتَةٌ مِثْلُ الدِّرْهَمِ يَابِسٌ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الْمَوْضِعَ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَسَلَتَ شَعْرَهُ مِنَ الْمَاءِ وَمَسَحَهُ بِهِ وَلَمْ يُعِدِ الصَّلاَةَ. الْمُتَوَكِّلُ بْنُ فُضَيْلٍ ضَعِيفٌ.
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز ادا کی۔ آپ نے غسل جنابت کیا ہوا تھا، آپ کے جسم مبارک پر ایک ورمہ جتنا حصہ خشک رہ گیا تھا جہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا۔ عرض کی گئی : یارسول اللہ ! اس جگہ تک پانی نہیں پہنچا، تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بالوں میں سے پانی کو اس جگہ ٹپکایا اور وہاں ہاتھ پھیرلیا، آپ نے نماز از سر نو ادا نہیں کی۔
اس روایت کا راوی متوکل بن فضیل ضعیف ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، جس کا ایک راوی متروک الحدیث ہے۔