3888 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُرْدٍ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِىِّ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقُلْنَا لَهَا حَدِّثِينَا فِى قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِيكِ. قَالَتْ دَخَلْتُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَمَعِى أَخُو زَوْجِى فَقُلْتُ إِنَّ زَوْجِى طَلَّقَنِى وَإِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنْ لَيْسَ لِى سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ. فَقَالَ « بَلْ لَكِ سُكْنَى وَلَكِ نَفَقَةٌ ». قَالَ إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا. فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ ». فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ طَلَبَنِى الأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ لِيَسْأَلَنِى عَنْ ذَلِكَ وَأَنَّ أَصْحَابَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَقُولُونَ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ.
3888 ۔ عامر شعبی بیان کرتے ہیں : ہم سیدہ فاطمہ بنت قیس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے ان سے کہا : آپ ہمیں وہ حدیث سنائیں جس میں آپ کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کا ذکر ہے ، تو سیدہ فاطمہ بنت قیس (رض) نے بتایا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی میرے ساتھ میرا دیور بھی تھا، میں نے عرض کی، میرے شوہر نے مجھے طلاق دیدی ہے اور اس (یعنی میرے دیور) کا یہ کہنا ہے کہ مجھے رہائش اور خرچ نہیں ملے گا، تو نبی کریم نے فرمایا تمہیں رہائش اور خرچ ملے گا (اس کے دیور) نے عرض کی اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دی ہیں تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا رہائش اور خرچ اس عورت کو ملتا ہے جس کے شوہر کو اس سے رجوع کرنے کا اختیار ہو۔
شعبی بیان کرتے ہیں : جب میں کوفہ آیا تو اسود بن یزید نے مجھے بلایا تاکہ اس بارے میں مجھ سے دریافت کریں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے شاگرد یہ فرماتے ہیں : ایسی عورت کو رہائش اور خرچ ملے گا۔