3895 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِى زَوْجِى ثَلاَثًا فَأَرَدْتُ النَّفَقَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « انْتَقِلِى إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ». قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فَلَمَّا حَدَّثَ بِهِ الشَّعْبِىُّ حَصَبَهُ الأَسْوَدُ فَقَالَ وَيْحَكَ تُحَدِّثُ أَوْ تُفْتِى بِمِثْلِ هَذَا قَدْ أَتَتْ عُمَرَ فَقَالَ إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَإِلاَّ لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللَّهِ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ (لاَ تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلاَ يَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ) لَمْ يَقُلْ فِيهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا. وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِى قَبْلَهُ لأَنَّ هَذَا الْكَلاَمَ لاَ يَثْبُتُ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ أَحْفَظُ مِنْ أَبِى أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىِّ وَأَثْبَتُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.- وَقَدْ تَابَعَهُ قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ
3895 ۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس (رض) بیان کرتی ہیں : میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، میں نے خرچ حاصل کرنا چاہا میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا : تم ابن ام مکتوم (رض) کے گھر منتقل ہوجاؤ۔
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : جب شعبی نے یہ روایت بیان کی تو اسود نے انھیں کنکریاں مارتے ہوئے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم یہ روایت بیان کررہے ہو یا اس روایت کی بنیاد پر فتوی دیتے ہو ، وہ خاتون حضرت عمر (رض) کی خدمت میں بھی حاضر ہوئی تھی ، تو حضرت عمر (رض) نے یہ فرمایا تھا، اگر تو تم دو ایسے گواہ لے کر آتی ہو، جو اس بات کی گواہی دیں کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم ایک عورت کے بیان کی وجہ سے اللہ کی کتاب کے حکم کو ترک نہیں کریں گے (وہ حکم یہ ہے ):
'' تم انھیں ان کے گھر سے نہ نکالو اور وہ بھی نہ نکلیں ماسوائے اس صورت کے کہ وہ واضح برائی کا ارتکاب کریں، اس ورایت میں راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ، اور اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت (کا حکم ) ترک نہیں کریں گے ۔
یہ روایت اس سے پہلے روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے ، کیونکہ یہ الفاظ ثابت نہیں ہیں۔ یحییٰ نامی راوی نے ابواحمد زبیری کے مقابلے میں بڑے حافظہ اور زیادہ مستند ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔