3915 - قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ح وَقُرِئَ عَلِى أَبِى الْقَاسِمِ أَيْضًا وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِىُّ وَشَيْبَانُ قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِىِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْبَتَّةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا أَرَدْتَ بِهَا ». قَالَ وَاحِدَةً . فَقَالَ « آللَّهِ ». قَالَ فَقَالَ آللَّهِ. فَقَالَ « هُوَ عَلَى مَا أَرَدْتَ ». غَيْرَ أَنَّ أَبَا نَصْرٍ لَمْ يَقُلِ ابْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ .
3915 ۔ عبداللہ بن علی اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں اپنی بیوی کو طلاق بتہ دیدی۔ نبی کریم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس کے ذریعے کیا مراد لیا تھا ؟ انھوں نے عرض کی : ایک (طلاق) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا : کیا اللہ تعالیٰ کی قسم : انھوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تمہاری مراد کے مطابق (واقع شمار ) ہوگی۔
اس روایت میں ابونصر نامی راوی نے لفظ، ابن یزید بن رکانہ، نقل نہیں کیا۔ ابن مبارک نے زبیر بن سعید کے حوالے سے یہ روایت ، مرسل، طور پر نقل کی ہے۔