3952 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ جَاءَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ هَاتِ مِنْ هُنَيَّاتِكَ وَمِنْ صَدْرِكَ وَمِمَّا جَمَعْتَ. قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الصَّهْبَاءِ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الثَّلاَثَةَ كَانَتْ تُرَدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى الْوَاحِدَةِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ قَدْ كَانَتِ الثَّلاَثَةُ تُرَدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ إِلَى الْوَاحِدَةِ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ تَتَايَعَ النَّاسُ فِى الطَّلاَقِ فَأَمْضَاهُنَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه ثَلاَثًا.
3952 ۔ طاؤس بیان کرتے ہیں : ابوصہباء حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آیا، تو حضرت ابن عباس (رض) نے اس سے فرمایا، اپناموقف (یا سوال) اور جو کچھ تمہارے ذہن میں ہے اور جو کچھ تم نے اکٹھا کیا ہے اسے پیش کرو۔ توابوصہباء نے ان سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں، تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے جواب دیا جی ہاں۔ نبی کریم کے زمانہ ، حضرت ابوبکر (رض) کے عہد خلافت اور حضرت عمر (رض) کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں ، لیکن جب حضرت عمر (رض) کے عہد میں طلاق کے مقدمات زیادہ آنے لگے تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے انھیں تین قرار دینا (شروع کردیا) ۔