hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 4022

.

سنن الدارقطني

4022
Sunan Al Daraqutni
4022 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً بِالأَسْوَافِ وَهِىَ جَدَّةُ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَزُرْنَاهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَفَرَشَتْ لَنَا صَوْرًا فَقَعَدْنَا تَحْتَهُ بَيْنَ نَخْلٍ وَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً وَعَلَّقَتْ لَنَا قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَتَحَدَّثُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِابْنَتَيْنِ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ - أَوْ قَالَتْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ - قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالاً إِلاَّ أَخَذَهُ فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلاَّ وَلَهُمَا مَالٌ. قَالَ فَقَالَ « يَقْضِى اللَّهُ فِى ذَلِكَ ». فَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ وَفِيهَا (يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِى أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَقَالَ لِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ادْعُوا لِىَ الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَهَا ». فَقَالَ لِعَمِّهِمَا « أَعْطِهِمَا الثُّلُثَيْنِ وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِىَ فَلَكَ ».
4022 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر پر تھے یہاں تک کہ اسواف، کے مقام پر ہم ایک خاتون کے پاس پہنچے جو خارجہ بن زید کی دادی تھیں ہم اس دن ان کے پاس ٹھہر گئے انھوں نے ہمارے لیے کپڑا بچھایا اور ہم کھجور کے درخت کے نیچے اس پر بیٹھ گئے ، اس خاتون نے ہمارے لیے بکری ذبح کروائی پانی کا مشکیزہ لاکر رکھا اس دوران ہم گفتگو بھی کرتے رہے اسی دوران ایک خاتون اپنی دوبچیوں کو لے کر حاضر خدمت ہوئی اور عر ض کی یارسول اللہ یہ ثابت بن قیس کی صاحبزادیاں ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سعید بن ربیع کی صاحبزادیاں ہیں جو آپ کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے ان کے چچا نے ان کا مال اور وراثت کا حصہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے اس نے ان دونوں کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا، سب حاصل کرلیا ہے یارسول اللہ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے اللہ کی قسم جب تک ان دونوں کے پاس مال موجود نہیں ہوگا ان دونوں کی شادی نہیں ہوسکتی۔ تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا اللہ اس بارے میں فیصلہ دے گا توسورہ نساء کی آیت نازل ہوئی جس میں یہ حکم ہے۔:
'' اللہ تعالیٰ نے تمہاری اولاد کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ ایک مذکر کا حصہ دومونث کے برابر ہوگا ''
تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے یہ فرمایا اس عورت کو میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس کے دوسرے فریق کو بھی لاؤ، پھر نبی کریم نے ان بچیوں کے وصی سے یہ کہا کہ تم ان بچیوں کو دوتہائی حصہ دو اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو جو باقی بچ جائے وہ تمہیں ملے گا۔