404 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنْ كَانَ مِنْ جَنَابَةٍ أَعَادَ الْمَضْمَضَةَ وَالاِسْتِنْشَاقَ وَاسْتَأْنَفَ الصَّلاَةَ . وَقَالَ ابْنُ عَرَفَةَ إِذَا نَسِىَ الْمَضْمَضَةَ وَالاِسْتِنْشَاقَ إِنْ كَانَ مِنْ جَنَابَةٍ انْصَرَفَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَأَعَادَ الصَّلاَةَ. قَالَ الشَّيْخُ الْحَافِظُ لَيْسَ لِعَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ إِلاَّ هَذَا الْحَدِيثُ عَائِشَةُ بِنْتُ عَجْرَدٍ لاَ تَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ .
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : اگر غسل جنابت میں (آدمی کلی کرتا ہو اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے) تو وہ دوبارہ کلی کرے گا اور ناک میں پانی ڈالے گا اور جہاں سے نماز چھوڑی تھی، وہیں سے پڑھ لے گا۔
ابن عرفہ بیان کرتے ہیں : اگر آدمی غسل جنابت میں کلی کرنا ہو اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جائے، اور (نماز کے دوران اسے یاد آئے) تو وہ نماز چھوڑ کر جائے گا، کلی کرے گا، ناک میں پانی ڈالے گا اور نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔ امام دار قطنی (رح) بیان کرتے ہیں : عائشہ بنت عجردنامی راوی خاتون سے صرف یہی روایت منقول ہے اور ان کی نقل کردہ روایت مستند قرار نہیں دی جاسکتی۔