4213 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الشُّونِيزِىُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا حَقُّ امْرِئٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِىَ فِيهِ إِلاَّ وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ ».
4213 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کسی بھی شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا مال موجودہوجس میں اس نے وصیت کرنی ہو اور پھر دو راتیں ایسی گزرجائیں (کہ اس نے وہ وصیت تحریرنہ کی ہو) اس کے وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔