hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 4243

.

سنن الدارقطني

4243
Sunan Al Daraqutni
4243 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ كُزَالٍ أَبُو الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَارُونَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُقَيْلِىُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِى مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِيمَا لاَ يُطِيقُ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِيمَا لَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ مَالَهُ هَدْيًا إِلَى الْكَعْبَةِ فِى أَمْرٍ لاَ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ مَالَهُ فِى الْمَسَاكِينِ صَدَقَةً فِى أَمْرٍ لاَ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْىَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فِى أَمْرٍ لاَ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْىَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فِى أَمْرٍ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَلْيَرْكَبْ وَلاَ يَمْشِى فَإِذَا أَتَى مَكَّةَ قَضَى نَذْرَهُ وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا لِلَّهِ فِيمَا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَفِ بِهِ مَا لَمْ يَجْهَدْهُ ». غَالِبٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ .
4243 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی نافرمانی سے متعلق کسی چیز کی نذرمانے تو اس کا کفارہ وہی ہوگا جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے اور جو شخص اپنے اوپر ہے اور جو شخص اپنے اوپر کوئی ایسی نذرلازم کرلے جسے وہ متعین نہ کرے تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے اور جو شخص اپنے مال کو کسی اور مقصد کے لیے تحفے کے طور پر خانہ کعبہ بھیجے ‘ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو ‘ تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے۔ اور جو شخص کسی ایسے مقصد کے لیے اپنے مال کو غریبوں میں صدقہ کرے کہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصوں نہ ہو ‘ تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے اور جو شخص اپنے اوپر بیت اللہ تک پیدل چل کر جانالازم کرے اور وہ کسی ایسی وجہ سے ہو کہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضاکاحصول نہ ہو ‘ تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے ‘ جو شخص کسی ایسی چیز کے ب ارے میں بیت اللہ تک پیدل چل کرجانے کی نذر اپنے اوپر لازم کرلے کہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو ‘ تو وہ سوار ہو کر جائے ‘ وہ پیدل ہو کرنہ جائے جب وہ مکہ آجائے گا تو وہ اپنی نذرکوپوراکرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کی کوئی ایسی نذر مانے جس کا مقصد اللہ کی رضاکاحصول ہو ‘ تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اسے پوری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جب تک وہ نذرا سے تھکانہ دے (یعنی وہ اسے پوری کرنے سے عاجز نہ ہوجائے) ۔