4314 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَتُحَرِّمُ رَضْعَةٌ أَوْ رَضْعَتَانِ فَقَالَ مَا أَعْلَمُ الأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ إِلاَّ حَرَامًا فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ - يُرِيدُ ابْنَ الزُّبَيْرِ - زَعَمَ أَنَّهُ لاَ تُحَرِّمُ رَضْعَةٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَضَاءُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ وَقَضَاءِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ .
4314 ۔ عمروبن دیناربیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سوال کیا : کیا ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کی رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت ہوجاتی ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : میں یہ سمجھتاہوں کہ رضاعی بہن حرام ہوتی ہے۔ تو ایک شخص بولا : امیرالمومنین نے تو یہ بات بیان کی ہے (اس شخص کی مراد حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) تھے) کہ ایک مرتبہ کی رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تمہارے فیصلے اور امیرالمومنین کے فیصلے سے بہت رہے۔