4345 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِىُّ بِعَسْقَلاَنَ حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضى الله عنه قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ مَالِى شَىْءٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الْمِائَةِ الْوَسْقِ الَّتِى أَطْعَمْتَنِيهَا مِنْ خَيْبَرَ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَاجْعَلْ ثَمَرَهَا صَدَقَةً ». قَالَ فَكَتَبَ عُمَرُ هَذَا كِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِى ثَمْغٍ وَالْمِائَةِ وَسْقٍ الَّتِى أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ إِنِّى حَبَسْتُ أَصْلَهَا وَجَعَلْتُ ثَمَرَهَا صَدَقَةً لِذِى الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَلِلْمُقِيمِ عَلَيْهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُؤْكِلَ صَدِيقًا لاَ جُنَاحَ لاَ يُبَاعُ وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ حَبِيسٌ مَا دَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ جَعَلَ ذَلِكَ إِلَى ابْنَتِهِ حَفْصَةَ فَإِذَا مَاتَتْ فَإِلَى ذِى الرَّأْىِ مِنْ أَهْلِهَا.
4345 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرے نزدیک سب سے بہترین مال وہ زمین ہے جس کی پیداوار ایک سووسق ہے ‘ جو آپ نے مجھے خیبر میں عطاء کی ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : تم اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو صدقہ کردو۔
راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے یہ تحریر لکھوائی :
یہ عمربن خطاب “ کی طرف سے ہے جو ” شمغ “ کی زمین کے بارے میں ہے اور ان ایک سووسق کے بارے میں ہے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عطاء کیے تھے جو خیبر میں ہیں۔ میں اس کی اصل کو اپنے پاس رکھوں گا اور اس کے پھل کو صدقہ کردوں گا ‘ جو قریبی رشتے داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں مسافروں اور اس کی نگرانی کرنے والے کو ملے گا تو نگرانی کرنے والا خود بھی اس میں سے کھاسکتا ہے اور اپنے کسی دوست کو بھی کھلاسکتا ہے ‘ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ البتہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جاسکے گا ‘ ہبہ نہیں کی جاسکے گا ‘ وراثت میں تقسیم نہیں ہوگی ‘ جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں “۔
حضرت عمر (رض) نے اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ (رض) کو یہ وصیت کی تھی ‘ پھر اگر ان کا انتقال ہوجاتا تو حضرت حفصہ (رض) کے خاندان میں سے کسی اور صاحب رائے شخص کی طرف یہ وصیت منتقل ہوجاتی ۔