4349 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدْ كَانَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ وَاشْتَرَاهَا حَتَّى اسْتَجْمَعَهَا فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى قَدْ أَصَبْتُ مَالاً لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَقَالَ « احْبِسِ الأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ ».
4349 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ وہ خیبر میں سو حصوں کے مالک بنے تھے ‘ انھوں نے کچھ اور زمین بھی خرید کرا سے اکٹھا کرلیا ‘ پھر وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس طرح کی زمین پہلے کبھی نہیں ملی ‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں (یعنی اس کو صدقہ کردوں) ۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اصل پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دو۔