4355 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِى ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْمَعْمَرِىُّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الصَّبَّاحِ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِىِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدْ كَانَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ فَاشْتَرَاهَا حَتَّى اسْتَخْلَصَهَا فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ قَدْ أَصَبْتُ شَيْئًا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ « فَاحْبِسِ الأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ
4355 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھیں خیبر میں ایک سو حصے ملے تھے ‘ انھوں نے اس کے ذریعے زمین خریدلی اور ان کو اکٹھا کرلیا ‘ پھر وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : مجھے ایسے چیزملی ہے کہ اس طرح کی چیز کبھی نہیں ملی ‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔