4374 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ وَعَمْرٍو وَيَحْيَى وَحُمَيْدٍ سَمِعُوا أَبَا بَكْرٍ يُخْبِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الَّذِى أُرِىَ النِّدَاءَ جَعَلَ حَائِطًا لَهُ صَدَقَةً فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى جَعَلْتُ حَائِطِى صَدَقَةً وَهُوَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَجَاءَ أَبَوَاهُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالاَ لَمْ يَكُنْ لَنَا عَيْشٌ إِلاَّ هَذَا الْحَائِطَ فَرَدَّهُ عَلَى أَبَوَيْهِ ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَهُمَا. هَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
4374 ۔ عمروبن سلیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زید (رض) جنہیں خواب میں اذان دینے کا طریقہ سکھایا گیا تھا ‘ انھوں نے اپنا ایک باغ صدقہ کردیا ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : میں نے اپنا یہ باغ صدقہ کردیا ہے ‘ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نذ رہے ‘ پھر ان کے والدین نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ان دونوں نے عرض کی کہ ہمارا گزربسر صرف اسی باغ پر ہوتا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ باغ ان کے والدین کو واپس کردیا۔ پھر جب ان والدین کا انتقال ہواتوان کے ورثاء کو وہ مل گیا۔