4376 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِىُّ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ فُلاَنٍ - نَسِىَ شَيْبَانُ اسْمَهُ - أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ شَىْءٍ هُوَ لِى صَدَقَةٌ إِلاَّ فَرَسِى وَسِلاَحِى قَالَ وَكَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَقَبَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَعَلَهَا فِى الأَوْفَاضِ أَوِ الأَوْقَاصِ فَجَاءَ أَبَوَاهُ فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطْعِمْنَا مِنْ صَدَقَةِ ابْنِنَا فَوَاللَّهِ مَا لَنَا شَىْءٌ . وَإِنَّا لَنَطُوفُ مَعَ الأَوْفَاضِ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَدَفَعَهَا إِلَيْهِمَا فَمَاتَا فَوَرِثَهُمَا ابْنُهُمَا الَّذِى كَانَ تَصَدَّقَ بِهَا فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَدَقَتِى الَّتِى كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا فَدَفَعْتَهَا إِلَى وَالِدَىَّ فَمَاتَا فَحَلاَلٌ هِىَ لِى قَالَ « نَعَمْ فَكُلْهَا هَنِيئًا مَرِيئًا ». وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ وَأَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى مَتْرُوكٌ.
4376 ۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن فلاں نامی صاحب (شعبان نامی راوی کو یہاں پہ لفظ بھول گیا ہے) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! میری ہرچیز صدقہ ہے سوائے میرے گھوڑے اور میرے ہتھیاروں کے۔ راوی بیان کرتے ہیں : ان کی کچھ زمین بھی تھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ قبضے میں لے لی اور اسے اوفاض (یعنی مختلف لوگوں کے لیے مالی مدد کے طورپر) مقرر کردیا۔ ان کے والد ین نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : ہمیں ہمارے بیٹے کے صدقہ کیے ہوئے مال میں سے کچھ کھانے کے لیے دیں ‘ اللہ کی قسم ! ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے ‘ ہم لوگ اوقاض کے چکرلگاتے ہیں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس باغ کو لیا اور اسے ان دونوں کے حوالے کردیا۔ پھر جب وہ دونوں فوت ہوئے تو ان کے بیٹے اس کے وارث بنے ‘ جنہوں نے اسے صدقہ کیا تھا ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! میں نے جو چیزصدقہ کی تھی اور جو آپ نے میرے والدین کو واپس کردی تھی تواب ان دونوں کا انتقال کی : یارسول اللہ ! میں نے جو چیزصدقہ کی تھی اور جو آپ نے میرے والدین کو واپس کردی تھی تواب ان دونوں کا انتقال ہوگیا ہے ‘ کیا یہ میرے لیے حلال ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں ! تم خوش کرا سے کھاؤ۔