4425 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا وَقَالَ فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةُ جَعَلَتْ تَشْتِمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَقَتَلْتُهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَلاَ اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ ». قَالَ الشَّيْخُ الدَّارَقُطْنِىُّ فِيهِ سُنَّةٌ فِى الأَصْلِ فِى إِشْهَادِ الْحَاكِمِ عَلَى نَفْسِهِ بِإِنْفَاذِ الأَقْضِيَةِ .
4425 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے حوالے سے یہی بات منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : اس شخص نے عرض کی : گزشتہ دن اس عورت نے آپ کو براکہنا شروع کیا اور آپ کی شان میں گستاخی کی تو میں نے اسے قتل کردیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ گواہ رہنا کہ اس عورت کا خون رائیگاں گیا ہے۔
امام دارقطعی (رح) نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس سے یہ سنت ثابت ہوتی ہے ‘ کوئی فیصلہ دیتے ہوئے حاکم لوگوں کو اپنی ذات کے بارے میں گواہ بناسکتا ہے۔