4442 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِى فِى نَفْسِى وَكَانَ لِى أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَلَقَدْ سَمَّى لِى صَفْوَانُ أَيَّهُمَا عَضَّ فَنَسِيتُهُ قَالَ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَانْتَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ « يَدَعُ يَدَهُ فِى فِيكَ تَقْضَمُهَا - أَحْسَبُهُ قَالَ - كَقَضْمِ الْفَحْلِ ».
4442 ۔ حضرت صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوا ‘ میں یہ سمجھتاہوں کہ یہ میری سب سے بڑی نیکی تھی ‘ میرے ساتھ میرا ایک مزدور بھی تھا ‘ اس کی ایک شخص کے ساتھ لڑائی ہوگئی ‘ ان دونوں میں سے کسی ایک نے دوسرے شخص کی انگلی چبالی۔ (راوی کہتے ہیں :) حضرت سفیان (رض) نے اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ کس نے کس کی انگلی چبائی تھی ‘ مجھے یہ بات بھول گئی ہے ‘ دوسرے شخص نے اپنا ہاتھ کھینچا توچبانے والے شخص کے سامنے کے دانٹ ٹوٹ گئے۔
یہ مقدمہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ نے ان دانتوں کو رائیگاں قراردیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : کیا یہ شخص اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتاتا کہ تم اس کا ہاتھ چبا ڈالتے۔
(راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ روایت میں یہ مثال ہے) تم سانڈ کی طرح چبالیتے۔