4452 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَآخَرُونَ قَالُوا حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الشُّفْعَةِ فِى كُلِّ شِرْكٍ لَمْ يُقْسَمْ رَبْعَةٌ أَوْ حَائِطٌ لاَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ شَرِيكَهُ وَقَالَ ابْنُ مَخْلَدٍ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ فَإِنْ بَاعَهُ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ. لَمْ يَقُلْ يُقْسَمْ فِى هَذَا الْحَدِيثِ إِلاَّ ابْنُ إِدْرِيسَ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ الْحُفَّاظِ.
4452 ۔ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ ہر ایسی چیز میں شفع کیا جاسکتا ہے جو دولوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو ‘ اور اسے تقسیم نہ کیا جاسکتا ہوجی سے کوئی زمین ہو یا کوئی باغ ہو ‘ آدمی کے لیے اس کو فروخت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب وہ اپنے شراکت دار سے اس کی اجازت نہیں لیتا۔
ایک روایت میں یہ بات ہے کہ جب تک اس کا شراکت دارا سے اجازت نہیں دیتا ‘ اگر وہ شراکت دار چاہے ‘ تو اسے لے اگر چاہے ‘ تو اسے ترک کردے ‘ اگر کوئی شخص ایسی جگہ کو فروخت کردیتا ہے اور اپنے شراکت دارکواطلاع نہیں دیتاتو شراکت دار اس جگہ کا زیادہ حق دار ہوگا۔
اس روایت میں ” تقسیم کیا جاسکے “ کے الفاظ صرف عبداللہ بن ادریس نامی راوی نے نقل کیے ہیں اور یہ صاحب ثقہ اور حافظ ہیں۔