4465 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى الثَّلْجِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانَ عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فِى خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِى بَيْنَهُمْ فَقَضَى لِلَّذِينَ تَلِيهُمُ الْقُمُطُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرَهُ فَقَالَ « أَصَبْتَ » . أَوْ « أَحْسَنْتَ ». لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدِ اخْتُلِفَ عَنْهُ فِى إِسْنَادِهِ.
4465 ۔ نمران حارثہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک گھرکامقدمہ لے کر آئے ‘ جوان کے درمیان مشترک تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے حضرت حذیفہ (رض) کو بھیجا تو حضرت حذیفہ (رض) نے اس کے حق میں فیصلہ کردیاجس کے حصے میں اس کی رسیاں بندھی ہوئی تھیں ‘ جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے ٹھیک فیصلہ دیا ہے۔
راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں (کہ تم نے اچھا فیصلہ دیا ہے) ۔