4472 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - هُوَ أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِى - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ أَتَى الزُّبَيْرَ فَقَالَ إِنِّى اشْتَرَيْتُ بَيْعَ كَذَا وَكَذَا وَإِنَّ عَلِيًّا يُرِيدُ أَنْ يَأْتِىَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَيَسْأَلَهُ أَنْ يَحْجُرَ عَلَىَّ فِيهِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا شَرِيكُكَ فِى الْبَيْعِ. فَأَتَى عَلِىٌّ عُثْمَانَ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ جَعْفَرٍ اشْتَرَى بَيْعَ كَذَا وَكَذَا فَاحْجُرْ عَلَيْهِ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا شَرِيكُهُ فِى الْبَيْعِ فَقَالَ عُثْمَانُ كَيْفَ أَحْجُرُ عَلَى رَجُلٍ فِى بَيْعٍ شَرِيكُهُ فِيهِ الزُّبَيْرُ.قَالَ يَعْقُوبُ أَنَا آخُذُ بِالْحَجْرِ وَأَرَاهُ وَأَحْجُرُ وَأُبْطِلُ بَيْعَ الْمَحْجُورِ عَلَيْهِ وَشِرَاهُ وَإِذَا اشْتَرَى أَوْ بَاعَ قَبْلَ الْحَجْرِ فَإِنْ كَانَ صَلاَحًا أَجَزْتُهُ وَإِنْ كَانَ مَعْنًى يَسْتَحِقُّ الْحَجْرَ حَجَرْتُ عَلَيْهِ وَرَدَدْتُ بَيْعَهُ وَإِنْ كَانَ مِمَّنْ لاَ يَسْتَحِقُّ الْحَجْرَ أَجَزْتُ بَيْعَهُ. قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ لاَ يَحْجُرُ وَلاَ يَأْخُذُ بِالْحَجْرِ .
4472 ۔ ہشام بن عروہ یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر ‘ حضرت زبیر (رض) کے پاس آئے اور بولے : میں نے فلاں چیزاتنے عوض میں خرید ی ہے ‘ اب حضرت علی (رض) یہ چاہتے ہیں کہ وہ امیرالمومنین کے پاس جاکر مجھے اس میں تصرف کرنے سے روک دیں ‘ تو حضرت زبیر (رض) نے کہا : میں اس سودے میں آپ کے ساتھ حصے داربن جاتاہوں ‘ پھر وہ حضرت عثمان (رض) کے پاس آئے تو حضرت عثمان (رض) نے کہا : جعفر کے صاحبزادے نے فلاں چیز اتنے کے عوض میں خریدی ہے ‘ میں انھیں تصرف سے روکنے لگاہوں۔ تو حضرت زبیر (رض) نے کہا : اس سودے میں ‘ میں بھی ان کے ساتھ حصے دارہوں ‘ تو حضرت عثمان (رض) نے کہا : میں کسی کو سودے کے بارے میں تصرف کرنے سے کیسے روک سکتا ہوں ‘ جس میں حضرت زبیر (رض) اس کے شراکت دارہوں۔
اس روایت کے راوی یعقوب یعنی قاضی ابویوسف یہ فرماتے ہیں : میں یہ موقف رکھتاہوں کہ ایسی صورت میں متعلقہ شخص کو تصرف کرنے کے حوالے سے روکا جاسکتا ہے ‘ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسے شخص کو میں روک دوں گا اور اس کے کیے ہوئے سودے کو باطل قراردوں گا ‘ جب تک وہ تصرف کرنے سے روک دیا گیا ہے ‘ خواہ اس نے کچھ خرید اہویا فروخت کیا ہو۔
لیکن اگر کسی شخص کے تصرف کیے جانے سے پہلے کوئی چیز خریدی یا فروخت کی ہو ‘ تو اگر وہ درست حالت میں ہو ‘ تو میں اس کو درست قراردوں گا ‘ لیکن اگر اس میں کوئی ایسی صورت پائی جارہی ہو جس کی وجہ سے وہ اس بات کا مستحق ہو کرتصرف سے روک دیا جائے تو میں متعلقہ شخص کو تصرف سے روک دوں گا اور اس کے سودے کو کالعدم قراردے دوں گا لیکن اگر وہ ایسی چیزہوجس میں تصرف سے روکناضروری نہیں ہے ‘ میں اس کے سودے کو درست قراردوں گا۔
قاضی ابویوسف کہتے ہیں : امام ابوحنیفہ نہ توتصرف سے روکتے تھے اور نہ ہی انھوں نے تصرف سے روکنے کے بارے میں فتوی دیا ہے۔