4495 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِىُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُقَالُ لَهُ هُنَىٌّ عَلَى الْحِمَى فَقَالَ يَا هُنَىُّ اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا مُجَابَةٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ وَإِيَّاىَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَا إِلَى زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُ يَأْتِنِى بِبَنِيهِ فَيَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا لاَ أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلأُ أَهْوَنُ عَلَىَّ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ ظَلَمْنَاهُمْ إِنَّهَا لَبِلاَدُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِى الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِى الإِسْلاَمِ وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَوْلاَ الْمَالُ الَّذِى أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَى النَّاسِ مِنْ بِلاَدِهِمْ شِبْرًا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِىُّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِىِّ.
4495 ۔ زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت عمربن خطاب (رض) نے اپنے غلام کو عامل مقرر کیا ‘ اسے چراگاہ کا نگران بنایا ‘ اس کا نام ” ہنی “ تھا ‘ حضرت عمر (رض) نے اس سے کہا : اے ہنی ! تم مسلمانوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا ‘ مظلوم کی بددعا سے بچنا ‘ کیونکہ وہ مستجاب ہوتی ہے ‘ تم تھوڑی سی بھیڑ ‘ بکریوں کے مالک کو چراگاہ میں داخل ہونے دینا ‘ البتہ عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف کے جانوروں کو اندرنہ آنے دینا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کے جانور اگر مر بھی گئے تو یہ لوگ اپنے کھجوروں کے باغات کی طرف چلے جائیں گے ‘ لیکن تھوڑی سی بکریوں کے مالکان کے جانورگر مرگئے تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آجائیں گے اور کہیں گے : اے امیرالمومنین ! (ہماری مدد کیجئے ! ) کیا میں انھیں ترک کردوں گا ؟ ان لوگوں کو پانی اور پارہ فراہم کرنا میرے نزدیک دینار اور درہم فراہم کرنے سے زیادہ آسان کام ہے۔ اللہ کی قسم ! یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے حالانکہ یہ ان ہی کا علاقہ ہے ‘ جس کے بارے میں زمانہ جاہلیت میں وہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کیا کرتے تھے۔
اور اسی علاقے میں رہتے ہوئے انھوں نے اسلام قبول کیا ہے ‘ اس ذات کی قسم ! جس کی قدرت میں میری جان ہے ! میں نے اگر اللہ کی راہ میں مجاہد ین کو مال فراہم نہ کرنا ہو ‘ تو میں ایک بالشت کے برابر جگہ لوگوں کے داخلے سے نہ روکتا (یعنی اسے سرکاری چراگاہ قرارنہ دیتا) ۔