4512 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِى وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّى فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ ابْنُ أَخِى وَقَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ. فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِى وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِى وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَتَسَاوَقَاهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِى قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ . وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِى وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِى وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ». وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ». ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ « احْتَجِبِى مِنْهُ » لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ. قَالَتْ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِىَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .
4512 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ قتیبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی زید بن ابی وقاص سے عہدلیا کہ زمعہ کو کنیزکابیٹا مجھ سے ہے ‘ تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے موقع پر حضرت سعد نے اسے حاصل کرلیا اور بولے : یہ میرا بھتیجا ہے جس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہدلیا تھا اور عبدبن زمعہ ان کے سامنے کھڑے ہوئے اور بولے : یہ میرا بھائی ہے ‘ یہ میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے جو میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ یہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ حضرت سعد نے عرض کی : یارسول اللہ ! یہ میرا بھتیجا ہے جس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہدلیا تھا۔ عبدبن زمعہ نے کہا : یہ میرا بھائی ہے ‘ میرے والد کی کنیزکا بیٹا ہے ‘ جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عبدبن زمعہ ! یہ تمہیں ملے گا ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بچہ اس کا سمجھاجائے گا جس کافر اش ہو اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدہ سودہ بنت زمعہ (رض) سے فرمایا : تم اس سے پردہ کرلو۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ کرلی تھی۔
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : اس لڑکے نے مرتے دم تک کبھی سیدہ سودہ (رض) کو نہیں دیکھا۔