4514 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِى أَبِى قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَبَيْنَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ دَعْوَى فِى شَىْءٍ فَحَكَّمَا أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَصَّ عَلَيْهِ عُمَرُ فَقَالَ أُبَىٌّ اعْفُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ لاَ لاَ تُعْفِنِى مِنْهَا إِنْ كَانَتْ عَلَىَّ. قَالَ قَالَ أُبَىٌّ فَإِنَّهَا عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ فَحَلَفَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ أَتُرَانِى قَدِ اسْتَحْقَقْتُهَا بِيَمِينِى اذْهَبِ الآنَ فَهِىَ لَكَ.
4514 ۔ محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب اور حضرت معاذبن عفراء کے بارے میں کسی چیز کے درمیان اختلاف ہوگیا ‘ ان دونوں حضرات نے حضرت ابی بن کعب کو ثالث مقرر کیا ‘ حضرت عمر (رض) نے انھیں پوراواقعہ سنایا ‘ حضرت ابی بولے : تم امیرالمومنین کو معاف کردو ‘ انھوں نے کہا : اگر یہ ادائیگی مجھ پر لازم ہے ‘ تو آپ مجھے ہرگز معاف نہ کریں ‘ تو حضرت ابی بن کعب بولے : اے امیرالمومنین ! یہ ادائیگی آپ پر لازم ہے ‘ تو حضرت عمر (رض) نے قسم اٹھائی اور بولے : میرے قسم اٹھانے کی وجہ سے اس سے میں اس سے بری الذمہ ہوگیاہوں ‘ تم یہ چیزلے جاؤیہ تمہاری ہوئی۔