4517 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُبَشِّرٍ وَعَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَسَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَضَى فِى كَلْبِ الصَّيْدِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا وَفِى كَلْبِ الْغَنَمِ شَاةٌ وَفِى كَلْبِ الزَّرْعِ فَرَقٌ مِنْ طَعَامٍ وَفِى كَلْبِ الدَّارِ فَرَقٌ مِنْ تُرَابٍ حَقٌّ عَلَى الَّذِى قَتَلَهُ أَنْ يُعْطِىَ وَحَقٌّ عَلَى صَاحِبِ الْكَلْبِ أَنْ يَأْخُذَ مَعَ مَا نَقَصَ مِنَ الأَجْرِ.
4517 ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انھوں نے شکار کرنے والے کتے کے بارے میں چالیس درہم دینے کا فیصلہ دیا ہے۔ بکریوں کے رکھوالے کتے کے بارے میں ایک بکری کی ادائیگی ‘ کھیت کے رکھوالے کتے کے بارے میں ‘ اناج کے فرق (بڑے برتن) کا حکم دیا ہے ‘ جبکہ گھر کی حفاظت والے کتے میں مٹی کے ایک بڑے برتن کا حکم دیا ہے۔ یہ اس شخص پر لازم ہوگا جو ایک کتے کو مار دیتا ہے ‘ وہ اسے یہ اداکرے گا۔ تاہم کتے کے مالک کے لیے یہ بات لازم ہے کہ وہ اس بدلے کو وصول کرتے ہوئے اس میں کوئی کمی کردے۔