4614 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا الْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِىِّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِى مَسْعُودٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أُتِىَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَطَّبَ ثُمَّ رَدَّهُ فَتَبِعَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ دَعَا بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَصَبَّهُ فِيهِ وَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ « إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمُ الأَنْبِذَةُ فَاكْسِرُوهَا بِالْمَاءِ ». لاَ يَصِحُّ هَذَا عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنِ الثَّوْرِىِّ. وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ غَيْرُ الْيَسَعَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَهَذَا حَدِيثٌ مَعْرُوفٌ بِيَحْيَى بْنِ يَمَانٍ وَيُقَالُ إِنَّهُ انْقَلَبَ عَلَيْهِ الإِسْنَادُ وَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ بِحَدِيثِ الْكَلْبِىِّ عَنْ أَبِى صَالِحٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
4614 ۔ حضرت ابومسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یاد ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا ‘ جس میں نبی ذموجود تھی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پکڑا اور ناراضگی کا اظہارکرکے اسے واپس کردیا ‘ ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے آیا ‘ اس نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیا یہ حرام ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس برتن کو پکڑا ‘ پھر آپ نے آپ زم زم کا ایک ڈول منگوایا اور اس میں وہ پانی ملادیا ‘ پھر اس مشروب کو پی لیا ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب تمہاری نبی ذتیز ہوجائے تو اس کی تیزی کو پانی کے ذریعے ختم کردو۔