4679 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالاَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِىِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ قَالَ صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- طَعَامًا فَدَعَتْهُ وَأَصْحَابَهُ - قَالَ - فَذَهَبَ بِى أَبِى مَعَهُ - قَالَ - فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَىْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الأَبْنَاءِ مِنْ آبَائِهِمْ - قَالَ - فَلَمْ يَأْكُلُوا حَتَّى رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ أَكَلَ فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لُقْمَتَهُ رَمَى بِهَا ثُمَّ قَالَ « إِنِّى لأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاةٍ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهَا ». فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِى وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَيْهِ وَلَوْ كَانَ خَيْرًا مِنْهَا لَمْ يُغَيِّرْ عَلَىَّ وَعَلَىَّ أَنْ أُرْضِيَهُ بِأَفْضَلَ مِنْهَا فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَأَمَرَ بِالطَّعَامِ لِلأُسَارَى .
4679 ۔ عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے مزینہ قبیلے کے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھاناتیار کیا ‘ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو دعوت دی ‘ میرے والد بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ مجھے بھی ساتھ لے کر چلے گئے ‘ ہم لوگ اپنے ‘ اپنے والد کے سامنے اسی طرح بیٹھ گئے جیسے بچے اپنے والد کے سامنے بیٹھتے ہیں ‘ لوگوں نے اس وقت تک کھانا نہیں شروع کیا جب تک انھوں نے یہ نہیں دیکھ لیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانا شروع کرچکے ہیں۔ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لقمہ لیاتو پھر آپ نے اس کو اس کو پرے رکھ دیا اور ارشاد فرمایا : مجھے اس بکری کے گوشت میں ایساذائقہ محسوس ہوا ہے جیسے یہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔ اس خاتون نے عرض کی : یارسول اللہ ! یہ میرے بھائی کی ہے اور میرا بھائی مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے ‘ اگر اس سے زیادہ بہتربکری موجود ہوتی تو اسے بھی ذبح کرنا ہمارے لیے دشوار نہ ہوتا ‘ اب مجھ پر یہ بات لازم ہے کہ میں اس سے بہتربکری اسے دے کرا سے راضی کرلوں گی۔ لیکن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کھانے سے انکار کردیا اور آپ کے حکم کے حکم تحت وہ کھانا قیدیوں کو کھلادیا گیا۔