471 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى الْمَالِكِىُّ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِىٌّ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- شَيْخٌ كَبِيرٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ « وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا » قَالَ لاَ وَالَّذِى بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ صَلاَةٍ وَلاَ صِيَامٍ إِلاَّ أَنِّى أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ « فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ». قَالَ فَذَهَبَ الشَّيْخُ فَأَخَذَهُ بَوْلُهُ فِى الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْهِ النَّاسُ فَأَقَامُوهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « دَعُوهُ عَسَى أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ». فَصَبُّوا عَلَى بَوْلِهِ الْمَاءَ . كَذَا قَالَ يُوسُفُ الْمُعَلَّى الْمَالِكِىُّ. الْمُعَلَّى مَجْهُولٌ.
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ دیہاتی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ بڑی عمر کا آدمی تھا، اس نے عرض کیا : اے حضرت محمد ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں نے اس کے لیے کوئی زیادہ نمازیں اور روزے تیار نہیں کیے ہیں، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت رکھتے ہو۔
راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ بڑی عمر کا آدمی گیا اور اس نے مسجد میں پیشاب کرنا چاہا، کچھ لوگ اس کے پاس سے گزرے اور اسے روک دیا، تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اسے کرنے دو ! ہوسکتا ہے، یہ جنتی ہو، پھر ان لوگوں نے اس کے پیشاب پر پانی بہا دیا۔