474 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ لُؤْلُؤٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ بَلَلاً وَلاَ يَذْكُرُ احْتِلاَمًا قَالَ « يَغْتَسِلُ ». وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنْ قَدِ احْتَلَمَ وَلاَ يَجِدُ بَلَلاً قَالَ « لاَ غُسْلَ عَلَيْهِ ». فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ أَعَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِكَ غُسْلٌ قَالَ « نَعَمْ إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو تزی دیکھتا ہے لیکن اسے احتلام یاد نہیں ہوتا، تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ غسل کرلے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جسے یہ یاد ہوتا ہے، اسے احتلام ہوا تھا لیکن اسے تری نظر نہیں آتی، تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس پر غسل لازم نہیں ہوگا۔ سیدہ ام سلیم (رض) نے عرض کی : اگر عورت یہ چیز دیکھ لے ؟ تو کیا اس پر بھی یہ حکم لازم ہوگا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں ! عورتیں مردوں کا پہلو ہیں۔