488 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِىُّ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصْبِحُ صَائِمًا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ فَتَلْقَاهُ الْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ فَيُقَبِّلُهَا ثُمَّ يُصَلِّى. قَالَ عُرْوَةُ فَقُلْتُ لَهَا مَنْ تَرَيْنَهُ غَيْرُكِ فَضَحِكَتْ.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں ہوتے اور نماز کے لیے وضو کرلیتے ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی اہلیہ آپ کے سامنے آتی تو آپ ان کا بموسہ لے لیتے اور پھر نماز ادا کرلیتے (یعنی از سر نو وضو نہیں کرتے تھے) ۔ عروہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ان سے کہا : وہ آپ کے علاوہ اور کون ہوسکتی ہیں ؟ تو سیدہ عائشہ (رض) مسکرادیں۔