497 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ الدِّمَشْقِىُّ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ زَيْنَبَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَبِّلُ امْرَأَتَهُ وَيَلْمَسُهَا أَيَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ فَقَالَتْ لَرُبَّمَا تَوَضَّأَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فَيُقَبِّلُنِى ثُمَّ يَمْضِى فَيُصَلِّى وَلاَ يَتَوَضَّأُ. زَيْنَبُ هَذِهِ مَجْهُولَةٌ وَلاَ تَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ.
عمروبن شعیب، سیدہ زینب (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انھوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا کہ جو اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے، اسے چھو لیتا ہے، تو کیا اس شخص پر وضو کرنا لازم ہوگا ؟ تو سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے جواب دیا : بعض اوقات نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے اور پھر میرا بوسہ لے لیتے اور پھر تشریف لے جاتے اور نماز ادا کرتے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔
اس روایت کی راوی زینب نامی راوی مجہول ہے اور اس طرح کی روایت کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔