500 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ الْجُهَنِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ لاَ يُحْدِثُ وُضُوءًا. قَوْلُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ وَهَمٌ وَإِنَّمَا أَرَادَ غَالِبَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَأَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِىُّ هُوَ خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ ضَعِيفٌ وَلَيْسَ بِالَّذِى يَرْوِى عَنْهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِى زَائِدَةَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ایک اہلیہ کا بوسہ لیتے تھے اور پھر از سر نو وضو نہیں کیا کرتے تھے۔ یہاں پر راوی کا یہ کہنا کہ یہ روایت عبداللہ بن غالب سے منقول ہے، یہ وہم ہے۔ ان کی مراد یہ تھی : یہ غالب بن عبیداللہ سے منقول ہے، اور یہ راوی متروک ہے۔