507 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ فِرَاشِى فَقُلْتُ قَامَ إِلَى جَارِيَتِهِ مَارِيَةَ فَقُمْتُ أَتَحَسَّسُ الْجُدُرَ وَلَيْسَ لَنَا كَمَصَابِيحِكُمْ هَذِهِ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ فَوَضَعْتُ يَدِى عَلَى صَدْرِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ فِى سُجُودِهِ « اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِى ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ». الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ضَعِيفٌ. خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوُهَيْبٌ وَغَيْرُهُمَا رَوَوْهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلاً.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بستر پر نہیں پایا تو میں اٹھی، میں نے یہ سوچا کہ آپ اپنی کنیز ماریہ کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے، میں اٹھی اور دیواروں کو ٹٹولنے لگی، ان دنوں ہمارے ہاں تم لوگوں کی طرح چراغ نہیں ہوا کرتے تھے، جواب موجود ہیں۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت سجدے کی حالت میں تھے، میں نے اپنے ہاتھ آپ کے پاؤں کی پشت پر رکھا تو آپ سجدے کی حالت میں یہ دعا مانگ رہے تھے : ” اے اللہ ! میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، اور میں تیری بارگاہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثناء نہیں بیان کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثناء بیان کی ہے “۔
اس روایت کا ایک راوی فرج بن فضالہ، ضعیف ہے۔ بعض دیگر راویوں نے اسے نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے اور اس روایت کو ” مرسل “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔