584 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ الْحِمْصِىُّ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ نُسَىٍّ وَهُبَيْرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِىُّ حَدَّثَنَا ثَوْبَانُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَائِمًا فِى غَيْرِ رَمَضَانَ فَأَصَابَهُ غَمٌّ أَذَاهُ فَتَقَيَّأَ فَقَاءَ فَدَعَانِى بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَفْطَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرِيضَةٌ الْوُضُوءُ مِنَ الْقَىْءِ قَالَ « لَوْ كَانَ فَرِيضَةً لَوَجَدْتَهُ فِى الْقُرْآنِ » قَالَ ثُمَّ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْغَدَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ « هَذَا مَكَانُ إِفْطَارِى أَمْسِ ». لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ غَيْرُ عُتْبَةَ بْنِ السَّكَنِ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھا ہوا تھا، یہ رمضان کے علاوہ کی بات ہے، آپ کو کوئی تکلیف لاحق ہوئی، جس نے آپ کو اذیت دی، جس کی وجہ سے آپ کو قے آگئی ، پھر آپ نے قے کی، پھر وضو کے لیے مجھے بلا کر وضو کیا اور روزے کو ختم کردیا، میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! قے کرنے کے بعد وضو کرنا فرض ہے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر یہ فرض ہوتا تو تمہیں پر آن میں اس کا حکم مل جاتا۔
راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اگلے دن روزہ رکھا تھا تو میں نی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : یہ میرے گزشتہ کل کے روزہ توڑنے کی قضا ہے۔ اس روایت کو اوزاعی کے حوالے سے صرف عطیہ بن سکن نے نقل کیا ہے، یہ شخص منکر الحدیث ہے۔